لکھنؤ 20 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جے ڈی یو کے سابق ایم پی شرد یادو نے آج مرکز میں حکمران بی جے پی قیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو ڈوبتی ہوئی کشتی قراردیا۔ان کا خیال ہے کہ ایک ایک کر کے اس کے تمام اتحادی پارٹی این ڈی اے سے کنارہ کشی کر لیں گی۔شرد یادو نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ این ڈی اے کا ایجنڈا تقسیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شیو سینا کے بعد تیلگو دیشم پارٹی بھی این ڈی اے سے الگ ہوچکی ہے۔ ان کے خیال کے مطابق اب این ڈی اے میں کوئی نہیں بچنے والا نہیں ہے ، ماضی میں این ڈی اے کے کنوینررہ چکے شردیادونے کہاہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور ان کے نائب لال کرشن اڈوانی کے زمانے میں این ڈی اے کا قومی ایجنڈا تھا، لیکن اب وہ بغاوت کے ایجنڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مرکز کی موجودہ حکومت مذہب کے نام پر ملک کو بانٹ رہی ہے۔ سابق ایم پی نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر غیر آئینی زبان بولنے اور آئین کا حلف لے کر اسے مجر وح کرنے کا بھی الزام لگایا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ ملک کو مذہب کے نام پر بانٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی شکست تو محض ’ٹریلر‘ ہے، پوری تصویر ابھی باقی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے سیکولرذہن جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے ملک کا دورہ کر رہے یادو نے اس سے پہلے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کی۔حالانکہ انہوں نے اس ملاقات کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کر دیا لیکن یہ ضرور کہا کہ ان کا خیال ہے کہ آئین کو محفوظ کرنا لازمی ہے، اس کے لیے بڑے پیمانے پر پارٹیاں ان کے ساتھ اتحاد قائم کر رہی ہیں، وہ جلد ہی بی ایس پی سربراہ مایاوتی سے بھی ملیں گے۔ جے ڈی یو پر حق کی قانونی جنگ لڑ رہے یادو نے کہا کہ انہیں اپنی جیت کا یقین ہے لیکن پھر بھی وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کے لیے کوئی نیا نام مل جائے۔